ہندوستان
راہل نے ریلی میں امڈے عوامی سیلاب پر اظہار تشکر کیا، کانگریس نے کہا بی جے پی کا پروپیگنڈہ پنکچر ہوگیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ‘ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ’ ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے ووٹ چوری کے خلاف آواز بلند کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی اس حمایت سے واضح ہوگیا ہے کہ جمہوریت اور سچائی کی جیت ہوگی اور آئندہ انتخابات میں انڈیا اتحاد کی کامیابی یقینی ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ووٹ چوری کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ریکارڈ تعداد میں پہنچنے پر آپ سب کا شکریہ۔” انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جمہوریت کی جیت ہوگی، سچائی کی فتح ہوگی اور انڈیا اتحاد کامیاب ہوگا۔
اس دوران کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ انڈیا اتحاد کی عظیم ریلی کو بدنام کرنے اور لوگوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لیے تاجروں کے نقصان اور بازار بند ہونے کا خوف پھیلایا گیا، لیکن بی جے پی کا یہ پورا پروپیگنڈہ پنکچر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بچانے کے لیے ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کے اصل معاملے سے ملک کی توجہ ہٹانا اور لوگوں کو عظیم ریلی میں شرکت سے روکنا تھا، لیکن اس کا الٹا اثر ہوا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ مسٹر گاندھی کی اپیل پر لوگوں نے دہلی کے بازاروں میں خریداری کی۔ پرانی دہلی کی تھوک منڈیوں میں دکانیں کھلی رہیں اور کاروبار بھی ہوا۔ لوگوں نے چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی پٹری والوں سے بھی سامان خریدا۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کی رپورٹوں نے بی جے پی کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پردہ فاش کردیا ہے۔
انہوں نے دہلی کے تاجروں، دکانداروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے جمہوری احتجاج کے ساتھ ساتھ مقامی کاروبار کی بھی حمایت کی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اس ریلی کو متاثر کرنے کے لیے پھیلائے گئے تمام منفی پروپیگنڈے کے ناکام ہونے سے ثابت ہوگیا ہے کہ جمہوریت کی آواز کو نہ خوف کے ذریعے دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھوٹے پروپیگنڈے سے۔ عوام اپنے ووٹ کا حق بھی بچائیں گے، کاروبار بھی جاری رکھیں گے اور جواب دہی کا مطالبہ بھی کریں گے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کھرگے کا بی جے پی پر اتراکھنڈ کے عوام کو دھوکہ دینے کا الزام، کہا: لوگ تبدیلی چاہتے ہیں
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے پیر کے روز اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اقتدار میں دس سال گزارنے کے باوجود اس نے ریاست کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے ریاست میں امن و قانون کی صورت حال خراب ہونے، خواتین کے تحفظ سے متعلق بڑھتی تشویش اور جواب دہی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی کا بھی الزام عائد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں کھرگے نے کہا کہ پہاڑی ریاست کے عوام بی جے پی کی ‘ڈبل انجن’ حکومت سے تیزی سے مایوس ہو رہے ہیں اور اب وہ حکومت سے جواب اور حکمرانی میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اتراکھنڈ میں بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کے دس سال ریاست کے عوام کی امیدوں اور امنگوں سے دھوکہ کرنے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ امن و قانون کی صورت حال کی خرابی، خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا تکبر اور جواب دہی سے مسلسل گریز نے حکومت پر عوام کے اعتماد کو کمزور کردیا ہے۔
کھرگے نے کہا کہ کانگریس اتراکھنڈ کے عوام کے حقوق اور مفادات کی آواز بلند کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ریاستی حکومت کے خلاف سڑکوں سے لے کر اسمبلی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عام شہریوں کو درپیش مسائل اٹھاتی رہے گی اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو جواب دہ بنائے گی۔
انہوں نے کہا، ”اتراکھنڈ کے عوام اب جواب چاہتے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے اور اچھی حکمرانی و عوامی فلاح و بہبود پر مبنی متبادل فراہم کرنے کے کانگریس کے عزم کا اظہار کیا۔
کھرگے نے کہا، ”ہمارا عزم عوام کا اعتماد جیتنا اور دیو بھومی اتراکھنڈ کو ایک محفوظ، حساس اور جواب دہ حکومت دینا ہے، جو ہر چیز سے بڑھ کر عوامی مفاد کو ترجیح دے۔”
کانگریس صدر کا یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی 2027 کے اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے اور 2022 میں دوبارہ اقتدار میں آنے والی بی جے پی کو حکومت سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست میں اپنی تنظیمی موجودگی مضبوط بنانے میں مصروف کانگریس، حکمراں جماعت کے خلاف عوامی شکایات کو ایک وسیع سیاسی چیلنج میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کھرگے کے بیان سے ان مسائل کا بھی اشارہ ملتا ہے جو کانگریس کی انتخابی مہم میں اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ان میں امن و قانون، خواتین کا تحفظ، جواب دہی اور حکمرانی میں مبینہ تکبر جیسے معاملات شامل ہیں، جنہیں پارٹی ریاست میں بی جے پی کی مسلسل حکمرانی کو چیلنج کرنے کے لیے نمایاں طور پر اٹھا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کو فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ زہریلے پی ایم 2.5 کی سطح دہلی اور شمالی ہندوستان کے کئی دیگر علاقوں میں لوگوں کا دم گھونٹ رہی ہے۔ انہوں نے ملک میں فضائی معیار کے موجودہ معیارات پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ فضائی معیار میں مسلسل گراوٹ ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خاص طور پر باریک ذرات کی آلودگی کے لیے مقررہ حدوں پر نظرثانی اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا، ”پی ایم 2.5 خاص طور پر ملک کی راجدھانی اور شمالی ہندوستان کے دیگر علاقوں کا دم گھونٹ رہا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کے موجودہ قومی فضائی کوالٹی کے معیارات، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ حدوں کے مقابلے میں کافی نرم ہیں۔
اس فرق کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ ہندوستان میں پی ایم 2.5 کی 24 گھنٹے کی اوسط قابل قبول حد 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد صرف 15 مائیکروگرام ہے۔ سالانہ اوسط کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہے، کیونکہ ہندوستان میں اس کی قابل قبول حد 40 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے صرف پانچ مائیکروگرام کی سفارش کی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ہندوستان میں مقررہ حدیں روزانہ کی بنیاد پر عالمی صحت کے رہنما اصولوں سے چار گنا اور سالانہ بنیاد پر آٹھ گنا زیادہ ہیں۔
قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے تحت حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ پی ایم 10 آلودگی میں کمی پر توجہ دینے کی وجہ سے پی ایم 2.5 کے صحت پر مرتب ہونے والے زیادہ سنگین اثرات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم جسامت کے ذرات خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ یہ پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
سال 2019 میں شروع کیا گیا قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) ملک کے 130 شہروں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کا مقصد پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 دونوں کی مقدار میں کمی لانا ہے۔ تاہم، شہروں کے لیے مقرر کردہ اہداف میں پی ایم 10 کی سطح کم کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا یہ پروگرام باریک ذرات سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی مؤثر ہے یا نہیں۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”پی ایم 2.5 کے معیارات پر فوری نظرثانی اور ان پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔” انہوں نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سائنسی بنیادوں اور صحت عامہ کو مرکز میں رکھنے والے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر سیاسی طنز کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کو ‘پی ایم 3.0 حکومت’ بھی قرار دیا اور اشارہ دیا کہ حکومت کو بڑھتے ہوئے فضائی آلودگی کے بحران پر کہیں زیادہ توجہ دینی چاہیے، بجائے اس کے کہ صحت عامہ کے اس سنگین خطرے کو نظر انداز کیا جائے۔
مسٹر رمیش کا یہ بیان دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں فضائی معیار کی بار بار بگڑتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، خاص طور پر سردیوں کے آغاز کے ساتھ آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، صنعتی آلودگی، تعمیراتی سرگرمیوں سے اڑنے والی گردوغبار، فصلوں کی باقیات جلانے اور موسم کی ناموافق صورتحال کے باعث آلودہ ذرات زمین کے قریب فضا میں جمع ہوجاتے ہیں، جس سے صحت عامہ کا بحران مزید سنگین ہوجاتا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کشی نگر میں سڑک حادثہ میں چھ افراد ہلاک، ایک زخمی
کشی نگر، ضلع کشی نگر کے ہاٹا کوتوالی علاقے میں ایک پیٹرول پمپ کے پاس وین اور ٹرک کے درمیان آمنے سامنے کی ٹکر میں چھ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک نوجوان شدید طور پر زخمی ہو گیا۔
پولیس نے پیر کو بتایا کہ یہ حادثہ اتوار کی دیر رات تقریباً 11 بجے اس وقت پیش آیا جب وین میں سوار لوگ تلک کی تقریب سے اپنے گھر واپس لوٹ رہے تھے۔ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ وین بری طرح تباہ ہو گئی۔
اطلاع ملتے ہی ہاٹا کوتوالی کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس نے زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا اور مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
پولیس کے مطابق، ضلع کے ہاٹا کوتوالی علاقے کے ہاٹا-پپرائچ روڈ پر تھرواڈیہہ پیٹرول پمپ کے پاس تقریباً گیارہ بجے وین اور ٹرک کی آمنے سامنے کی ٹکر ہو گئی، جس میں وین پر سوار تلک کے چھ باراتی ہلاک ہو گئے۔
مرنے والوں میں کپتان گنج تھانہ علاقے کی گرام پنچایت بھلوہی کے رہنے والے کنہیا پرساد (40) ولد رام ولاس، رام ولاس (65)، رام ملن (35) ولد رام ولاس، مردل مشرا (35) ولد نرودا مشرا، رنجے گپتا (32) ولد بنیادی گپتا، اور متھیلیش گپتا (22) ولد اودھیش گپتا شامل ہیں۔ جبکہ زخمی آرین (16) ولد رام ملن کا علاج کوشی نگر میڈیکل کالج میں چل رہا ہے۔
یہ تمام لوگ بھلوہی سے ایک رشتہ دار کی تلک تقریب میں شرکت کے لیے دیوراج پپرا گئے تھے۔ یہ سڑک حادثہ واپس گھر آتے وقت پیش آیا۔ ہاٹا کوتوالی پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان7 days agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا7 days agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoفرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
