جموں و کشمیر
مولانا نیاز احمد طیب پوری کے انتقال پُرملال سے علمی دنیا سوگوار
(یو این آئی ) مہاراشٹرا کےمعروف دینی وتعلیمی ادارہ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے استاذ تفسیر وادب اورجامعہ اسلامیہ خیر العلوم،ڈومریاگنج کے سابق استاذ مولانا نیاز احمد طیب پوری رحمہ اللہ کےانتقال پُر ملال سے ملت اسلامیہ بالخصوص سلفیانِ ہند ایک پیکرحرکت وعمل عالم دین ، منفرد معلم ومدرس، ممتاز مربی اور کہنہ مشق استاذ سے – محروم ہوگئے
مولانا موصوف کی وفات کی اطلاع دیتے ہوئے امام جامع مسجد مولانا عاطف سنابلی نے کہا کہ استاد گرامی مولانا نیاز احمد سلفی مدنی طیب پوری رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال سلفی اور علمی دنیا کا ایک بہت بڑا خسارہ ہے…
آپ حرکت وعمل اور جہد مسلسل کی ایک مجسم تصویر تھے….لکھنا پڑھنا، اور تعلیم وتعلم آپ کا ذوق تھا،آپ کو بیک وقت کئی زبانوں عربی، اردو، اورہندی زبانوں پر عبور تھا ..پیشہ وارانہ تعلیم وتربیت اور اصلاح ودعوت کے طریقہ سے بالاتر تھے…آپ کی فکرونظر میں بلندی اورتحریر وتقریرمیں اخلاص، سوز وتڑپ اور دردمندی کا مظہر نمایاں طور پر نظرآتا تھا
….مولانا عاطف سنابلی نے بتایاکہ آپ متعدد کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں آپ نے حدیث کی سب سے عظیم اور معتبر کتاب صحیح البخاری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ….آپ مجلہ الفرقان ڈومریاگنج کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں ….آپ کے علمی نگارشات عوام وخواص میں کافی مقبول ہوئے، آپ کی تحریریں علمی دنیا میں قدروتحسین کی نگاہ سے دیکھی اور پڑھی جاتی تھیں،
آپ کی ایک بنیادی خصوصیت یہ بھی تھی کہ تعلیم کے ساتھ تربیت پربھی خصوصی توجہ دیتے تھے…..آپ ایک منفرد اور نرالے انداز کے طریقہ تدریس کے مالک تھے….آپ مولانا نیازاحمد عبدالحمید طیب پوری کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے …
آپ کی وفات حسرت آیات سے پوری علمی دنیا سوگوارہے….
آپ کاتعلق یوپی کے ضلع بلرامپور کے مشہور ومعروف گاؤں طیب پور سے تھا
ان کے پسماندگان میں تین بیٹے مولانا خورشید مدنی، ڈاکٹر عامر ( ایم، ڈی) پونے اور طاہر ( بی.اے. مقیم دہلی) اور دوبیٹیاں ہیں-
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سینئر صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی ہے۔ دونوں نے ہفتہ کو اس کا اعلان کیا۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ندھی رازدان کے ساتھ اپنی چار تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ”کل ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔” انہوں نے اپنی پوسٹ میں ندھی رازدان کو بھی ٹیگ کیا۔
ندھی رازدان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا، ”ہوگیا بھائی۔”
دونوں کی شادی جمعہ کو نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران انجام پائی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد گواہ کے طور پر موجود تھے۔
یہ دونوں کی دوسری شادی ہے۔ عمر عبداللہ کی عمر 56 سال اور ندھی رازدان کی 49 سال ہے۔
یہ شادی جولائی 2026 میں سپریم کورٹ کی جانب سے عمر عبداللہ اور ان کی پہلی اہلیہ پائل عبداللہ کی شادی ختم کیے جانے کے تقریباً تین ماہ بعد ہوئی ہے۔ عدالت نے دونوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد یہ فیصلہ سنایا تھا۔
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی 1994 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ظاہر اور ضمیر ہیں۔
عمر عبداللہ نے 2011 میں علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ طلاق کا مقدمہ کئی برس تک عدالت میں زیر التوا رہا، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے رواں سال ان کی شادی ختم کرنے کا فیصلہ سنایا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
پاکستان سے متعلق بیان پر ایل جی سنہا کی فاروق عبداللہ پر تنقید، کہا: جموں و کشمیر میں تنازعات کے سوداگروں کی کوئی جگہ نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو پاکستان سے متعلق حالیہ بیان پر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر جموں و کشمیر کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاروق عبداللہ کا نام لیے بغیر سنہا نے کہا کہ کچھ لوگ جموں و کشمیر میں موجودہ استحکام، امن اور ترقی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ملک کے بارے میں مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔
سری نگر میں جموں و کشمیر کے یومِ تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہاکہ ”ہندوستان کے بارے میں بات کرنے کے بجائے وہ ایک ایسے ملک کا ذکر کرتے ہیں جہاں لوگوں کو آٹے کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی جو عظمت قائم ہوئی ہے، اسے تسلیم کرنے کے بجائے وہ مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔”
ان کا یہ بیان فاروق عبداللہ کے اس حالیہ بیان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پڑوسی ملک کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھ کر کشمیری عوام کا تحفظ کر رہا ہے۔ بی جے پی نے فاروق عبداللہ کے اس بیان کو ملک سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس بیان کی جانب بظاہر اشارہ کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس بات کو سمجھیں، کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے۔ جموں و کشمیر میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں اور یہی وہ عناصر ہیں جو اس خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً وادی کشمیر کے لوگوں نے اب ایسے عناصر کو پہچان لیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”مجھے خوشی ہے کہ جموں و کشمیر کے عام لوگوں، خاص طور پر وادی کشمیر کے عوام نے اب ایسے لوگوں کے چہروں کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری اور نوجوان اب ان لوگوں سے سوال کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہوں نے خطے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
دربار موو دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے
جموں، دربار موو کے دفاتر 2 نومبر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقع پر شہر کو روایتی طور پر نئے انداز میں سجایا جا رہا ہے۔ ٹریفک محکمہ نے دربار موو دفاتر کے دوبارہ کھلنے سے قبل سڑکوں پر نئے ڈیوائیڈرز لگانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ”آج دفاتر سری نگر میں بند ہوگئے ہیں اور 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔”
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے سال 2026-27 کے لیے سالانہ دربار موو کا باضابطہ حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت حکومت کا انتظامی مرکز سری نگر سے جموں منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے جون 2021 میں اس 150 سالہ قدیم روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت اس فیصلے کے لیے ڈیجیٹل ای آفس نظام کی جانب منتقلی اور سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کو وجہ بتایا گیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے 2024 کے انتخابی منشور میں اس روایت کی بحالی ایک اہم وعدہ تھا۔
دریں اثنا، سال میں دو مرتبہ ہونے والی اس منتقلی سے قبل سرکاری بنگلوں، عمارتوں اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے۔
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) تیجندر سنگھ نے بھی سرمائی دارالحکومت میں سالانہ دربار موو کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
یہ اجلاس حکومت کے دفاتر کی موسمی منتقلی سے قبل تیاریوں کا جائزہ لینے اور مربوط حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے مقصد سے طلب کیا گیا تھا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ دربار موو دفاتر دوبارہ کھلنے سے قبل حفاظتی وجوہات کی بنا پر سول سکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک بھی بند کردی جائے گی۔
حکومت کا صدر مقام سردیوں میں سری نگر سے جموں اور گرمیوں میں جموں سے سری نگر منتقل کرنے کی یہ روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی، تاکہ دونوں دارالحکومتوں کے انتہائی موسمی حالات سے بچا جا سکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
دنیا4 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoمرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
-
تجزیہ5 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان1 week agoاروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
-
دنیا1 week agoالحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
-
ہندوستان3 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
