جموں و کشمیر
اب آپ کی انسانیت کہاں گئی؟غزہ کے معاملے پر الہان عمرکا امریکی صدر سے سوال
اب آپ کی انسانیت کہاں گئی؟غزہ کے معاملے پر الہان عمرکا امریکی صدر سے سوال
واشنگٹن،24 اکتوبر(یو این آئی)غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت اور پھر اسرائیل کو حاصل امریکی حمایت پر مسلم امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر نے امریکی صدر جوبائیڈن کی انسانی ہمدردی پر سوال اٹھا دیا۔
واشنگٹن میں کی گئی پریس کانفرنس کے دوران الہان عمر نے امریکی صدر جوبائیڈن کی حکمت عملی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ حماس اوراسرائیل میں جاری جنگ پر آپ کی انسانیت کہاں ہے؟ آپ کیسے ایک ہی جانب کا ظلم دیکھ کر اسے غلط کہہ سکتے ہیں؟ آپ کیسے لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر اپنی دوستیاں برقرار رکھ سکتے ہیں؟
دوران خطاب الہان عمر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے حالیہ 10 دنوں میں غزہ پر اتنی بمباری کی ہے جتنی امریکہ نے پورے ایک سال میں افغانستان میں کی تھی، اب آپ کی لوگوں کیلئے ہمدردی کہاں گئی؟ اب آپ کی انسانیت کہاں گئی ؟
مسلم امریکی رکنِ کانگریس کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایسا صدر ہے جو یرغمالیوں کو رہا کرنے کی بات کر رہا ہے، جو امریکی شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کی بات کر رہا ہے لیکن خود کو یہ کہنے پر آمادہ نہیں کرسکا کہ میں ان سیکڑوں، ہزاروں امریکیوں کو بچانے کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں جو غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سینئر صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی ہے۔ دونوں نے ہفتہ کو اس کا اعلان کیا۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ندھی رازدان کے ساتھ اپنی چار تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ”کل ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔” انہوں نے اپنی پوسٹ میں ندھی رازدان کو بھی ٹیگ کیا۔
ندھی رازدان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا، ”ہوگیا بھائی۔”
دونوں کی شادی جمعہ کو نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران انجام پائی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد گواہ کے طور پر موجود تھے۔
یہ دونوں کی دوسری شادی ہے۔ عمر عبداللہ کی عمر 56 سال اور ندھی رازدان کی 49 سال ہے۔
یہ شادی جولائی 2026 میں سپریم کورٹ کی جانب سے عمر عبداللہ اور ان کی پہلی اہلیہ پائل عبداللہ کی شادی ختم کیے جانے کے تقریباً تین ماہ بعد ہوئی ہے۔ عدالت نے دونوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد یہ فیصلہ سنایا تھا۔
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی 1994 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ظاہر اور ضمیر ہیں۔
عمر عبداللہ نے 2011 میں علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ طلاق کا مقدمہ کئی برس تک عدالت میں زیر التوا رہا، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے رواں سال ان کی شادی ختم کرنے کا فیصلہ سنایا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
پاکستان سے متعلق بیان پر ایل جی سنہا کی فاروق عبداللہ پر تنقید، کہا: جموں و کشمیر میں تنازعات کے سوداگروں کی کوئی جگہ نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو پاکستان سے متعلق حالیہ بیان پر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر جموں و کشمیر کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاروق عبداللہ کا نام لیے بغیر سنہا نے کہا کہ کچھ لوگ جموں و کشمیر میں موجودہ استحکام، امن اور ترقی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ملک کے بارے میں مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔
سری نگر میں جموں و کشمیر کے یومِ تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہاکہ ”ہندوستان کے بارے میں بات کرنے کے بجائے وہ ایک ایسے ملک کا ذکر کرتے ہیں جہاں لوگوں کو آٹے کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی جو عظمت قائم ہوئی ہے، اسے تسلیم کرنے کے بجائے وہ مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔”
ان کا یہ بیان فاروق عبداللہ کے اس حالیہ بیان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پڑوسی ملک کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھ کر کشمیری عوام کا تحفظ کر رہا ہے۔ بی جے پی نے فاروق عبداللہ کے اس بیان کو ملک سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس بیان کی جانب بظاہر اشارہ کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس بات کو سمجھیں، کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے۔ جموں و کشمیر میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں اور یہی وہ عناصر ہیں جو اس خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً وادی کشمیر کے لوگوں نے اب ایسے عناصر کو پہچان لیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”مجھے خوشی ہے کہ جموں و کشمیر کے عام لوگوں، خاص طور پر وادی کشمیر کے عوام نے اب ایسے لوگوں کے چہروں کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری اور نوجوان اب ان لوگوں سے سوال کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہوں نے خطے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
دربار موو دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے
جموں، دربار موو کے دفاتر 2 نومبر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقع پر شہر کو روایتی طور پر نئے انداز میں سجایا جا رہا ہے۔ ٹریفک محکمہ نے دربار موو دفاتر کے دوبارہ کھلنے سے قبل سڑکوں پر نئے ڈیوائیڈرز لگانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ”آج دفاتر سری نگر میں بند ہوگئے ہیں اور 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔”
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے سال 2026-27 کے لیے سالانہ دربار موو کا باضابطہ حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت حکومت کا انتظامی مرکز سری نگر سے جموں منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے جون 2021 میں اس 150 سالہ قدیم روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت اس فیصلے کے لیے ڈیجیٹل ای آفس نظام کی جانب منتقلی اور سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کو وجہ بتایا گیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے 2024 کے انتخابی منشور میں اس روایت کی بحالی ایک اہم وعدہ تھا۔
دریں اثنا، سال میں دو مرتبہ ہونے والی اس منتقلی سے قبل سرکاری بنگلوں، عمارتوں اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے۔
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) تیجندر سنگھ نے بھی سرمائی دارالحکومت میں سالانہ دربار موو کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
یہ اجلاس حکومت کے دفاتر کی موسمی منتقلی سے قبل تیاریوں کا جائزہ لینے اور مربوط حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے مقصد سے طلب کیا گیا تھا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ دربار موو دفاتر دوبارہ کھلنے سے قبل حفاظتی وجوہات کی بنا پر سول سکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک بھی بند کردی جائے گی۔
حکومت کا صدر مقام سردیوں میں سری نگر سے جموں اور گرمیوں میں جموں سے سری نگر منتقل کرنے کی یہ روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی، تاکہ دونوں دارالحکومتوں کے انتہائی موسمی حالات سے بچا جا سکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoمرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
دنیا6 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
ہندوستان7 days agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
-
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
