دنیا
اسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
یروشلم، اسرائیل کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نوم سولبرگ نے کہا ہے کہ ملک کے عام انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے، چاہے بیرونی مداخلت سے متعلق الزامات درست ہی کیوں نہ ثابت ہوجائیں۔
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ نوم سولبرگ نے اتوار کو اسرائیلی داخلی خفیہ ایجنسی شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ”ہمارا موقف ہے کہ اگر یہ شبہات درست بھی ثابت ہوجاتے ہیں تو اس سے انتخابی عمل کی شفافیت یا مجموعی انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے، بغیر کوئی ثبوت پیش کیے، الزام لگایا تھا کہ عرب قیادت والی جماعتوں نے، جنہوں نے منگل کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی، ووٹ ”چوری” کیے اور اس مقصد کے لیے قطر سے مالی امداد حاصل کی۔ قطر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن اطلاعات پر مبنی مہم قرار دیا ہے۔
ادھر اتوار کو اسرائیلی پولیس نے انتخابات سے قبل گرفتار کیے گئے تین سیاسی کارکنوں میں سے دو کو رہا کردیا۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس نقد رقم سے بھرے لفافے تھے، جنہیں مبینہ طور پر ووٹروں کو رشوت دینے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ ایک کارکن کو بعض غیر واضح شرائط کے ساتھ رہا کیا گیا، جبکہ دوسرے کو گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین کا تعلق عرب قیادت والی جماعت رعام (Ra’am) سے تھا، جس نے انتخابات میں آٹھ نشستیں حاصل کی ہیں۔ جماعت کے سربراہ منصور عباس نے گرفتاریوں کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے اتوار کو نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کی ساکھ کو مشکوک بنانے کے لیے ”منظم اور منصوبہ بند مہم” چلانے کا الزام لگایا۔
آئزن کوٹ اس سے قبل عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں، تاہم حالیہ انتخابات میں پیدا ہونے والی سیاسی تعطل کی صورت حال میں ان جماعتوں کی حمایت انہیں حکومت سازی میں مدد دے سکتی ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزن کوٹ کی قیادت والے حزب اختلاف کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ اس طرح اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں کوئی بھی اتحاد تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
اسرائیل کی تین عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اگر یہ جماعتیں آئزن کوٹ کے ساتھ اتحاد کرلیتی ہیں تو پارلیمنٹ میں انہیں 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے اور حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت مل جائے گی۔ تاہم اسرائیل میں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا تصور اب بھی بہت سے حلقوں کے لیے سیاسی طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق رواں ہفتے متوقع ہے۔ اس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نئے حکومت کی تشکیل کے لیے کسی امیدوار کو نامزد کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 2026: اہم نکات
واشنگٹن، امریکہ میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ یہ انتخابات صدر کی چار سالہ مدتِ کار کے نصف حصے میں منعقد ہوتے ہیں۔ اس بار ووٹرز ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ ان انتخابات کے نتائج سے آئندہ دو برس کے لیے کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا، اس کا فیصلہ ہوگا۔
اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پر شامل نہیں ہوگا، تاہم ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر ان کی انتظامیہ کی کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں برسرِ اقتدار صدر کی جماعت کو کانگریس میں اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے یہ انتخاب صدر کی سیاسی مقبولیت کا اہم امتحان بھی ہے۔
امریکہ میں نومبر کے پہلے منگل کو انتخابات کرانے کی روایت کا تعلق بڑی حد تک 19ویں صدی کے سماجی رواج، زرعی سرگرمیوں اور آمدورفت کی محدود سہولتوں سے ہے۔
امریکی صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ اس کی مدت کے وسط میں کانگریس کے انتخابات کرائے جاتے ہیں، جنہیں وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ ان میں صدر کا نام ووٹنگ کے لیے پیش نہیں ہوتا، لیکن نتائج کو ان کی کارکردگی پر عوامی رائے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی کانگریس قانون سازی کا ادارہ ہے اور اس کے دو ایوان ہیں:
– ایوانِ نمائندگان: اس کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ ارکان دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
– سینیٹ: اس کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ سینیٹرز کی مدتِ کار چھ سال ہوتی ہے۔
کئی ریاستوں میں ووٹرز گورنروں، ریاستی قانون ساز اداروں اور مقامی عہدیداروں کا انتخاب بھی کریں گے۔
کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن میں گورنروں کے انتخابات پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی اس کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 53 نشستیں ہیں۔
اگر حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی دونوں میں سے کسی ایک ایوان کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے یا اسے سست کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی اخراجات پر اثرانداز ہونے، صدر کی انتظامیہ کے خلاف سماعتیں اور تحقیقات کرانے اور مواخذے کی بحث دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
نتائج کچھ بھی ہوں، ٹرمپ صدر برقرار رہیں گے اور انہیں قانون سازی پر ویٹو کا اختیار بھی حاصل رہے گا، لیکن کانگریس میں دونوں جماعتوں کی تقسیم ان کے داخلی پالیسی منصوبوں کو محدود کر سکتی ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا ْ
دنیا
امریکہ میں ہیلووین ویک اینڈ کے دوران فائرنگ کے واقعات، 201 افراد زخمی، کم از کم 76 ہلاک
واشنگٹن، امریکہ میں ہیلووین کے اختتام ہفتہ کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم 76 افراد کی موت ہو گئی۔ تجزیہ کاروں کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ سے اتوار تک ملک بھر میں فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 201 افراد زخمی ہوئے۔
مقامی پولیس حکام نے روسی خبر رساں ایجنسی ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ تہوار کے موقع پر منعقد
ہونے والی کئی تقریبات اور پارٹیوں کا اختتام بڑی تعداد میں لوگوں کے اسپتال پہنچنے پر ہوا۔ حکام کے مطابق 31 اکتوبر کو منایا جانے والا تہوار ‘ہیلووین’ اس مرتبہ ہفتہ کے روز تھا۔ ایسا اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔ اس سے قبل 2020 میں 31 اکتوبر کو ہفتہ تھا، جبکہ آئندہ یہ اتفاق 2037 میں ہوگا۔ امریکہ میں یہ تہوار بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے، جس کے دوران مختلف شہروں میں پریڈ اور خصوصی لباس کے مقابلوں سمیت کئی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ جمعہ کی صبح ریاست ٹینیسی سے شروع ہوا، جہاں ایک نوجوان ہائی اسکول میں پستول لے کر پہنچ گیا۔ اس واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تاہم نوجوان کے خلاف غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اسی طرح شکاگو کے جنوبی علاقے میں ایک بحث کے دوران 35 سالہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے۔ جائے وقوعہ کی ویڈیو میں ایک نجی مکان دکھائی دے رہا ہے، جسے ہیلووین کے موقع پر سجایا گیا تھا۔ ریاست میزوری کے ایک چھوٹے شہر میں گھر پر منعقدہ پارٹی کے دوران تنازعہ فائرنگ میں تبدیل ہوگیا، جس میں 22 سالہ شخص نے ایک 18 سالہ نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔ ان واقعات میں گھریلو تشدد کے دوران اسلحہ استعمال کیے جانے کے معاملات بھی شامل ہیں۔
ریاست کیلیفورنیا کے شہر فیئر فیلڈ میں پولیس محکمہ نے ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ ایک مقامی شاپنگ مال میں ہیلووین کے ملبوسات فروخت کرنے والی دکان کے قریب فائرنگ ہوئی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں 16 سے 43 سال کی عمر کے چھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ 31 سالہ حاملہ خاتون کی موت ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ریاست مونٹانا کے شہر یوریکا میں شیرف کے دفتر نے جمعہ کی شام فائرنگ کے ایک واقعے میں ڈپٹی شیرف کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ پولیس اہلکار ایک اطلاع پر جائے وقوعہ پر پہنچے تھے کہ اسی دوران ایک حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے میں ایک اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ ادھر ریاست الاباما کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں فائرنگ کے واقعے میں دو افراد کی موت ہونے کی اطلاع ہے۔
ریاست کنساس کے شہر وِچیتا کے پولیس محکمہ نے ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ ہفتہ کی صبح فائرنگ کے ایک واقعے میں چار افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ زخمیوں میں ایک شخص کے چہرے پر گولی لگی تھی۔
اتوار کی رات ریاست ڈیلاویئر میں یونیورسٹی کیمپس کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں رات کے دوران فائرنگ کے تین الگ الگ واقعات میں چار افراد کی ہلاکت اور 15 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ٹیکساس ہی کے ایک دوسرے شہر میں سالگرہ کی تقریب کے دوران فائرنگ سے سات افراد کو اسپتال میں داخل کرائے جانے کی اطلاع ہے۔
ریاست فلوریڈا کے شہر جیکسن وِل میں پولیس نے ایک پارٹی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے، جبکہ 15 سالہ لڑکی سمیت مزید نو افراد زخمی ہوئے۔ ریاست الینوائے میں بھی فائرنگ کے ایک واقعے میں 19 سالہ نوجوان کی موت اور آٹھ دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جمعہ سے اب تک امریکہ بھر میں فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 201 افراد زخمی اور 76 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
امریکہ کے پاس وقت ہے، امن معاہدے کے لیے جلدبازی نہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ”روایتی جنگ نہیں” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں اور پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود وقت امریکہ کے ساتھ ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران مذاکرات میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”لیکن دیکھیے، وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ اور سچ کہوں تو ہمارے پاس وقت ہے۔ یہ جنگ ہے، لیکن روایتی جنگ نہیں۔ اسے شروع ہوئے سات ماہ ہو چکے ہیں۔”
امریکی صدر نے فوجی مہم کے مالی اخراجات کی اہمیت بھی کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اس تنازع پر واشنگٹن نسبتاً بہت کم رقم خرچ کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”نسبتاً دیکھا جائے تو ہم بہت کم پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا سے متعلق پیش رفت کے ذریعے امریکہ اپنے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم حاصل کر چکا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ متعدد بار ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا ان میں شدت لانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل امریکی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ”ایک اور چھوٹی ایپک فیوری” کارروائی شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ ایپک فیوری سے مراد تہران کے خلاف امریکہ کی ابتدائی فوجی مہم ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک ”بڑے اور اچھے” معاہدے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی شامل ہیں۔
دریں اثنا، جمعہ کو امریکہ میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔ ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات، خطے کی مجموعی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات رواں ہفتے کے اوائل میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ہوئی۔ اس دوران انقرہ نے بحری سلامتی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تھے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے فوجی ٹھکانوں، میزائل مراکز اور جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا۔ ابتدائی بمباری میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر جوابی میزائل حملے کیے۔
بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت محدود کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
-
ہندوستان5 days agoکھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 1,856.67 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
