ہندوستان
دہلی میں 65 لاکھ روپے مالیت کے غیر قانونی سگریٹ ضبط
نئی دہلی، دہلی حکومت نے باقاعدہ جانچ کے دوران 65 لاکھ روپے مالیت کے غیر قانونی سگریٹ لے جانے والی ایک گاڑی کو یہاں ضبط کر لیا۔
حکام نے بدھ کو بتایا کہ یہ کھیپ ٹریڈ اینڈ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی ٹیکس چوری مخالف شاخ کی ٹیم کی رات کے وقت مارے گئے چھاپے میں پکڑی گئی ہے۔ گاڑی میں جنوبی کوریا کے درآمد شدہ سگریٹ کے چار لاکھ سے زیادہ پیکٹ لے جائے جا رہے تھے، جسے اکثر اسمگلنگ کے ذریعے ہندوستانی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان میں فروخت یا تقسیم کیے جانے والے تمباکو کی مصنوعات پر لاگو قانونی معیار کی خلاف ورزی تھی۔
حکام نے بتایا کہ سگریٹ کے پیکٹوں کے اہم حصے پر مقررہ تصویری صحت سے متعلق تنبیہات درج نہیں تھیں۔ ‘سگریٹ اور دیگر تمباکو پروڈکٹس ایکٹ، 2003’ کے مطابق ہندوستان میں فروخت اور تقسیم کے لیے سگریٹ یا تمباکو کی مصنوعات کے ہر پیکیج پر مخصوص صحت کی خبردار کرنے والی تنبیہات اور تصویری لیبل ڈسپلے کرنا لازمی ہے۔
یہ قانون ملکی اور درآمد شدہ دونوں طرح کے تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہوتا ہے۔ غیر قانونی درآمد شدہ سگریٹوں کی ضبطی پر دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا، “دہلی حکومت ٹیکس چوری، سامان کی غیر قانونی نقل و حمل اور تمباکو کی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی۔” انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی جی ایس ٹی ایکٹ، 2017 کے ضوابط کے تحت کی گئی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے بدھ کو نریندر مودی حکومت کے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرخیوں والا عدد ہندوستان کی معیشت کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے سابق فنانس سکریٹری سبھاش چندر گرگ کے اندازے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصل نمو 2.6 فیصد کے قریب ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت معاشی کارکردگی کی مبالغہ آمیز تصویر پیش کرنے کے لیے شماریاتی پیش کش اور تشہیر کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “مودی حکومت اپنی ٹیم اور میڈیا کے ذریعے شماریاتی ہیرا پھیری سے تیار کی گئی جعلی جی ڈی پی نمو کا جتنا زیادہ ڈھنڈورا پیٹے گی، اتنی ہی اس کی حقیقت سامنے آئے گی کیونکہ یہ زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔”
مسٹر رمیش نے خاص طور پر گرگ کے اندازے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے حساب سے ہندوستان کی اصل جی ڈی پی نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے، جو سرکاری طور پر بتائے گئے 7.8 فیصد سے کافی کم ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ محض سازگار اعداد و شمار پیش کرنے سے مضبوط معاشی کارکردگی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا، “ایک مضبوط معیشت کا راستہ جھوٹ کی بنیاد پر بنائے گئے اعداد و شمار کو سجانے میں نہیں بلکہ سچائی کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔” مسٹر رمیش نے دلیل دی کہ حکومت کو اس کے بجائے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے، مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو مضبوط بنانے، نجی سرمایہ کاری کو بحال کرنے، مانگ اور گھریلو آمدنی بڑھانے، معاشی عدم مساوات کو کم کرنے اور ان کے بقول “کرونی کیپٹلسٹس” کو فائدہ پہنچانے کے بجائے منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے یہ تبصرے جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کی تشریح پر بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کے درمیان آئے ہیں، جس میں حکومت نے بتائی گئی 7.8 فیصد نمو کو عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان کی معیشت کی لچک اور مسلسل رفتار کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، کانگریس نے حکومت کی اس پیش کش کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے کہ صرف ہیڈلائن جی ڈی پی نمو خاندانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کے معاشی حالات کو مناسب طریقے سے بیان نہیں کرتی۔
مسٹر رمیش کی جانب سے سابق فنانس سکریٹری کے جائزے کا حوالہ دینے کا فیصلہ اپوزیشن کی تنقید کو ایک اضافی معاشی زاویہ فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کوبراہ راست نشانہ بناتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ تشہیر معاشی اعداد و شمار کی پیش کش کو بہتر بنا سکتی ہے لیکن معیشت کی بنیادی حالت کو نہیں بدل سکتی۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پی آر جی ڈی پی کی تصویر کو چمکا سکتا ہے، لیکن یہ معیشت کو مضبوط نہیں کر سکتا۔” مسٹر رمیش نے مسٹر مودی کی شہریوں سے جی ڈی پی کے ان مضبوط اعداد و شمار پر جشن منانے کی حالیہ اپیل کا بھی حوالہ دیا، اور کہا کہ ان اعداد و شمار کو اب شدید جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ واضح ہے کہ جس جی ڈی پی پر مسٹر مودی ملک کے لوگوں کو پٹاخے پھوڑنے اور دیوالی منانے کے لیے کہہ رہے ہیں، اس پر خود ان کے اپنے سابق فنانس سکریٹری کی جانب سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔” کانگریس لیڈر کی اس مداخلت سے ہندوستان کی معاشی کارکردگی پر سیاسی محاذ آرائی مزید تیز ہونے کا امکان ہے، جس میں حکومت کی جانب سے معیشت کی مضبوطی کو اجاگر کرنے کے لیے سرکاری قومی کھاتوں کے اعداد و شمار پر انحصار کرنے کی توقع ہے، جبکہ اپوزیشن معاشی صحت کے اشاریوں کے طور پر روزگار، کھپت، سرمایہ کاری، عدم مساوات اور چھوٹے کاروباروں کی حالت پر توجہ مرکوز رکھے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جھوٹ بولنے کے علاوہ مودی حکومت میں کچھ نہیں بدلا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے معیشت کے سلسلے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا جشن منا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتے ہوئےعدم مساوات جیسے مسائل سے پریشان ہے اور اس کے لیے اس حکومت میں کچھ نہیں بدلا ہے۔
مسٹر کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھی ایک پوسٹ میں کہا کہ تبدیلی کی بات کرنے والی مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام سے جھوٹ بولنے کے علاوہ بی جے پی کے اقتدار میں کچھ نہیں بدلا ہے۔ عام لوگ غیرمعمولی بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔
کانگریسی صدر نے کہا کہ مسٹر مودی ملک میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کا جشن منانے کی بات کہہ رہے ہیں، لیکن عام آدمی کے پاس ایسی خوشی منانے کی سہولت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر تین ‘یو’—غیرمعمولی بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کا بوجھ ہے اور اس کے لیے وزیرِ اعظم ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری 50 سال کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے اور 40 فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ جولائی 2026 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان بے روزگار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ اب ٹوٹ چکا ہے۔
کانگریسی صدر نے کہا کہ خردہ مہنگائی 19 مہینے کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے۔ چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول اور دودھ جیسی روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ پیٹرول، ڈیزل، رسوئی گیس اور سی این جی بھی عام لوگوں کے لیے مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کے خاندان کسی طرح گزارا کر رہے ہیں، جبکہ غریبوں نے امید چھوڑ دی ہے۔
مسٹر کھرگے نے الزام لگایا کہ ملک میں اقتصادی نابرابری برطانوی حکومت کے دور سے بھی بدتر صورتحال میں پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سب سے اوپر کے ایک فیصد لوگوں کے پاس ہندوستان کی کل جائداد کا 40 فیصد حصہ ہے، جبکہ نیچے کے 50 فیصد لوگ صرف 15 فیصد جائداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں غریبوں سے امیروں کی طرف جائداد کی سب سے بڑی منتقلی کو فروغ دیا ہے۔
انہوں نے حکومت پر ‘کرونی کیپٹلزم’ کو اپنی واحد اقتصادی پالیسی بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے کمپنیوں کے 16 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے قرضے رائٹ آف (بٹے کھاتے) کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 22,006 کروڑ روپے کے منظور شدہ مطالبات کے مقابلے قرض دہندگان کو صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، یعنی 99.97 فیصد کی ‘ہیئر کٹ’ یعنی قرض کی قدرمیں کمی ہوئی۔
کانگریسی صدر نے وزیرِ اعظم پر ایک قریبی کاروباری دوست کے مفادات کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک نے وزیرِ اعظم کو اپنے کاروباری دوست کے لیے ‘ذاتی ٹریول ایجنٹ’ کی طرح کام کرتے دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کا ہندوستانیوں سے سونا نہ خریدنے اور بیرونِ ملک سفر نہ کرنے کا بار بار اصرار بھی زمینی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مودی کے اقتدار میں لوگوں سے جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرحِ نمو پر جے رام رمیش اٹھائے سوال ، کہا مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے پر بڑھ رہا ہے شدید اقتصادی بوجھ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان کی 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ اہم اعداد و شمار معیشت میں موجود کئی بنیادی کمزوریوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر “وقت سے پہلے جشن منانے” کا الزام لگایا ہے۔
پیر کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون کے دوران ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی سال بہ سال 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی، جس میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 81.36 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 75.46 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ نامینل جی ڈی پی 10.3 فیصد بڑھ کر 88.27 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔
پہلی سہ ماہی کی یہ نمو ریزرو بینک آف انڈیا کے پہلے کے 7 فیصد کے تخمینے سے زیادہ تھی، اگرچہ یہ مالیاتی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں درج کی گئی 8.6 فیصد کی ترمیم شدہ نمو سے کم تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعداد و شمار پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار معیشت کی صورتحال کی گمراہ کن تصویر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار، جیسے کہ وہ رپورٹ کیے گئے ہیں، معیشت کی ایک شدید تحریف شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔”
جے رام رمیش نے دلیل دی کہ نمو کے یہ اعداد و شمار ملکی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے درمیان “شدید طور پر افسردہ نجی سرمایہ کاری کے جذبات” کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے صارفین کے کمزور اعتماد، گھریلو ضروریات کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری، چین کے ساتھ تجارتی خسارے اور گھریلو مالیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا، “صارفین کا اعتماد کمزورہوا ہے، جو کووڈ کے بعد کے اپنے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گیا ہے اور نومبر 2025 سے مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں “تیزی سے بڑھ رہی ہیں” اور تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری “تشویشناک سطح” پر ہے۔
کانگریسی رہنما نے چین کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ “چین کے ساتھ مسلسل تجارتی خسارہ تباہی مچا رہا ہے”۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اہم شعبوں کو “چند بڑے صنعتی گھرانوں” کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر “نقصان دہ اثرات” مرتب ہو رہے ہیں۔
جے رام رمیش نے نابرابری اور گھریلو مالیات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “ہندوستان کے 5 سب سے امیر خاندانوں کی دولت میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہ دار ملازمین کی حقیقی اجرتوں میں کمی آئی ہے،” جبکہ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ گھریلو بچت کی شرح میں کمی آئی ہے اور گھریلو قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ان کی یہ تنقید پہلی سہ ماہی کی نمو کے اعداد و شمار کی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے زبردست تائید کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے 7.8 فیصد کے اس اضافے کو ایک “مثالی” اور “عظیم کارنامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود یہ کارکردگی حاصل کی ہے۔
حکومت نے توقع سے زیادہ مضبوط جی ڈی پی کارکردگی کو ہندوستانی معیشت کے استحکام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے ساتھ، سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی گراس ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن میں 11.9 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔
کانگریس نے تاہم یہ دلیل دی ہے کہ اقتصادی نمو کا معیار اور شمولیت کا اندازہ روزگار، حقیقی اجرت، گھریلو استعمال، بچت، نجی سرمایہ کاری اور مالیاتی تحفظ سمیت وسیع تر اشاریوں کے ذریعے لگایا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعظم پر براہِ راست تنز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: “یہ وزیرِ اعظم کی طرف سے وقت سے پہلے جشن منانے کا معاملہ ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا1 week agoاسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: سکیورٹی فورسز نے دو مبینہ دہشت گرد ساتھیوں کو گرفتار کیا، اسلحہ برآمد
-
ہندوستان1 week agoکانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم
