جموں و کشمیر
سرینگر میں این سی اور بی جے پی کے مظاہروں سے سیاسی تنازع؛ اپوزیشن نے ‘ڈرامہ’ قرار دیا
سرینگر، سرینگر میں بدھ کے روز حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) اور بی جے پی کے الگ الگ مظاہروں کے بعد جموں و کشمیر میں زبردست سیاسی تنازع چھڑ گیا ہے، جہاں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے دونوں پارٹیوں پر عوام کو بے وقوف بنانے اور محض “ڈرامہ” رچانے کا الزام لگایا ہے، جب کہ بے روزگاری اور احتجاجی میڈیکل انٹرنز کے مسائل حل طلب پڑے ہیں۔
واضح رہے کہ این سی اور بی جے پی نے سرینگر کی سڑکوں پر ایک دوسرے کے خلاف متوازی احتجاج کیا، اگرچہ پولیس نے دونوں کے مارچ کو اپنی منزل کی طرف آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اس صورتحال پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر پولیس کی مبینہ امتیازی پابندیوں پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا: “وہی پولیس جو پی ڈی پی کو عوامی مسائل پر پرامن احتجاج کے لیے اپنے دفتر سے باہر نکلنے کی اجازت تک نہیں دیتی، اس نے بی جے پی اور این سی دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کرنے کی پوری سہولت فراہم کی۔ اس کھلے دوہرے معیار کی وضاحت ہونی چاہیے کہ ان امتیازی پابندیوں کی اجازت کون دیتا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے قانون کا اطلاق مختلف کیوں ہے؟”
پی ڈی پی رہنما اور ایم ایل اے وحید پرّہ نے بھی دونوں جماعتوں کے مظاہروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں فریق عوام کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے ‘ایکس’ پر کہا: “آج کے این سی اور بی جے پی کے مظاہرے ایک تماشا ہیں۔ جموں و کشمیر میں ناقص حکمرانی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران وہ ان ووٹرز کے ساتھ ‘فکسڈ میچ’ کھیل رہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ عوام تماشائی نہیں ہیں، وہ سب یاد رکھتے ہیں۔”
پیپلز کانفرنس کے صدر اور ایم ایل اے سجاد لون نے ان واقعات کو “بے تکا ڈرامہ” (Theatre of the absurd) قرار دیتے ہوئے دونوں جماعتوں کے ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کے جواز پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: “بے تکا کھیل؛ این سی اور بی جے پی ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ دونوں اقتدار میں ہیں۔ آخر کون کس کے خلاف مہم چلا رہا ہے؟” سجاد لون نے دونوں جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی توجہ احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز کی طرف مبذول کریں، جو جموں و کشمیر کا بہترین تعلیمی اثاثہ ہیں اور معمولی وظیفے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی میڈیکل انٹرنز کی تکلیف حقیقی ہے، لہٰذا دونوں حکمران جماعتیں یہ تماشا بند کریں اور ان انٹرنز کے مسائل پر توجہ دیں۔
دوسری جانب، این سی کے چیف ترجمان عمران ڈار نے مظاہروں پر محبوبہ مفتی کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان پر پلٹ وار کیا۔ انہوں نے کہا: “ویڈیو شواہد کا شکریہ، ورنہ محبوبہ مفتی کچھ بھی کہہ کر نکل جاتیں۔ اب ان کی خاصیت کچھ بھی بولنا بن چکی ہے کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ ان کی باتیں بھی اب ان کی پارٹی کی طرح کھوکھلی ہو چکی ہیں۔”
این سی کی ایک اور رہنما افرا جان نے محبوبہ مفتی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پورے علاقے کی بیریکیڈنگ کی گئی تھی اور کارکنوں کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا: “جو لوگ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، جن میں پارٹی کی خواتین عہدیدار بھی شامل تھیں۔ یہ سب کیمرے میں ریکارڈ ہے اور آپ جھوٹ پھیلا رہی ہیں۔ ہم عسکریت پسند نہیں تھے کہ ہمارے خلاف اس طرح طاقت کا استعمال کیا جاتا۔”
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر
بی جے پی کے مظاہرے میں نرمی برتی گئی اور این سی کے احتجاج پر وحشیانہ تشدد : عمر عبداللہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ انتظامیہ اور پولیس نے سرینگر میں بی جے پی کے مظاہرے کو “سہولت فراہم کی” جب کہ نیشنل کانفرنس کے احتجاج کو “وحشیانہ طریقے سے کچل دیا”۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کے مظاہروں کے درمیان کسی بھی قسم کے موازنے کو یکسر مسترد کر دیا۔
سرینگر میں ایک تقریب کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا: “آپ نے دیکھا کہ بی جے پی کو احتجاج کرنے کی مکمل اجازت دی گئی جب کہ نیشنل کانفرنس کو روک دیا گیا، اس لیے برائے مہربانی ان دونوں کا غلط موازنہ نہ کریں۔ ایک پارٹی کو سہولت دی گئی اور دوسری پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ میرے ساتھیوں کو گھسیٹا گیا، وہ زخمی ہوئے اور ان میں سے بعض کو اسپتال میں علاج کرانا پڑا۔”
مسٹرعمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں کو پولیس نے اسکارٹ کیا جب کہ این سی کے مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا: “آپ سب نے دیکھا کہ بی جے پی کے احتجاج کے دوران اپوزیشن لیڈر کا انٹرویو کتنی آسانی سے لیا گیا۔ اس لیے یہ مت کہیں کہ دو مظاہرے ہوئے بلکہ ایک مظاہرہ ہوا اور دوسرے کی اجازت چھین لی گئی۔ اگر آپ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ یا سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنا چاہیں تو اجازت ہے، لیکن اگر بی جے پی کے دفتر کے باہر احتجاج کریں تو روک دیا جاتا ہے کیونکہ پولیس صرف بی جے پی کے تحفظ کے لیے کھڑی ہے۔”
بی جے پی رہنما اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی جانب سے استعفیٰ دے کر ریاستی درجے کے معاملے پر نیا مینڈیٹ لینے کے چیلنج پر عمر عبداللہ نے کہا: “ہم ریاستی درجے کے حق میں پہلے ہی ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ میں اپوزیشن لیڈر کو خوش کرنے کے لیے استعفیٰ نہیں دوں گا۔ جموں و کشمیر کے عوام نے ہمیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور پانچ سال بعد ہی ہم اپنا رپورٹ کارڈ عوام کے سامنے رکھیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر مرکزی حکومت آئین، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی توہین کرنا چاہتی ہے اور مودی کے وعدے کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہے تو کھل کر سامنے آئے۔
پچھلے دروازے سے تقرریوں اور کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا: “میری حکومت کے پاس تفتیشی اداروں کا کنٹرول نہیں ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو، کرائم برانچ اور سی آئی ڈی ہمارے ماتحت نہیں ہیں۔ بی جے پی کے یہ الزامات سراسر بے بنیاد ہیں اور ‘الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے’ کے مترادف ہیں۔”
عمر عبداللہ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے حوالے سے متعلق آر ایس ایس کے سربراہ کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اس بیان کی اہمیت تبھی ہوگی جب اسے عملی جامہ پہنایا جائے اور زمینی سطح پر اس کے اثرات نظر آئیں۔
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر
یاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
سرینگر، تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی محمد یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور استغاثہ کے کیس کو “بعد میں گھڑی گئی کہانی” قرار دیا ہے جس کی تائید کے لیے اس دور کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے جون میں سرینگر کی ایک خصوصی عدالت میں سرلا بھٹ کے 1990 کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سرلا بھٹ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس )، سورا میں اسٹاف نرس تھیں، اور چارج شیٹ میں ملک سمیت ان کے چار ساتھیوں—خورشید چالکو، عبدالحمید شیخ، غلام محمد تاپلو اور محمد یوسف صوفی—کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج (ٹاڈا/پوٹا کورٹ) سرینگر کے سامنے پیش کیے گئے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا کہ ایس آئی اے نے 19 اپریل 1990 کو بھٹ کے قتل کے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں خود کو بطور ملزم دیکھ کر انہیں “شدید صدمہ اور حیرت” ہوئی۔
حلف نامے کے مطابق، تہاڑ جیل میں 2 اور 3 جون کو ملک سے پوچھ گچھ کرنے والے ایس آئی اے افسران نے ان کے سامنے دو الزامات رکھے۔ پہلا الزام ایک مبینہ دستی تحریر (نوٹ) سے متعلق تھا جو مبینہ طور پر جے کے ایل ایف کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا، جس میں قتل کے سلسلے میں جاوید میر، شیخ عبدالحمید اور ملک کا نام درج تھا۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ بھٹ نے نروارہ کے ایک مکان میں ملک کی موجودگی کے بارے میں سیکیورٹی فورسز کو مخبری کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ملک نے ان کے قتل کا حکم دیا۔
ملک نے دونوں الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 1990 میں واقعی ایسا کوئی نوٹ موجود تھا تو اس وقت کی تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں، جاوید کو یا حمید کو اس کیس میں کیوں نامزد نہیں کیا۔
ملک کے دفاع کا ایک بڑا حصہ 8 اپریل 1990 کے واقعات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نروارہ میں بی ایس ایف کے چھاپے سے بچنے کی کوشش کے دوران عمارت کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بے ہوش اور کوما میں رہے اور بعد میں ایس ایم ایچ ایس اور سکمز اسپتالوں میں ان کا علاج ہوا۔
ملک نے دلیل دی کہ ان حالات میں ان کے لیے 19 اپریل کو بھٹ کے قتل کا حکم دینا ناممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں بڑے پیمانے پر ان کے انتقال کی خبریں تک پھیل چکی تھیں اور بعد میں بھی وہ شدید چوٹوں کی وجہ سے معذور اور بے بس تھے۔
جے کے ایل ایف کے سربراہ نے بھٹ کو ایک بے قصور شہری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ بھٹ کوئی مخبر تھیں یا نروارہ چھاپے میں ان کا کوئی کردار تھا۔
حلف نامے میں کہا گیا: “تفتیشی افسران کی جانب سے مجھ سے پوچھے گئے سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ کیا محترمہ سرلا بھٹ سیکیورٹی فورسز کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہی تھیں اور کیا وہ 8 اپریل 1990 کو نروارہ، ڈاون ٹاون سرینگر میں کیے گئے چھاپے کی ذمہ دار تھیں۔ میں نے واضح طور پر کہا کہ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ محترمہ سرلا بھٹ نہ تو سیکیورٹی فورسز کے لیے کسی خفیہ حیثیت میں کام کر رہی تھیں اور نہ ہی وہ 8 اپریل 1990 کو نروارہ چھاپے کی کسی بھی طرح ذمہ دار تھیں۔ وہ ایک معصوم شہری تھیں۔ میری نظر میں وہ اتنی ہی معصوم تھیں جتنی میری اپنی تیرہ سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ۔”
ان کے مطابق، آپریشن کی قیادت کرنے والے بی ایس ایف کے ایک افسر نے بعد میں انہیں بتایا تھا کہ فورس کو عمارت میں ان کی موجودگی کی پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور چھاپے کا اصل ہدف ایک اور شخص تھا جو مبینہ طور پر اغوا کے ایک کیس سے جڑا ہوا تھا۔
ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں سرلا بھٹ کے قتل کے بارے میں پہلی بار 21 فروری 1991 کو—ان کی موت کے تقریباً 10 ماہ بعد—عدالتی تحویل کے دوران معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک افسر نے انہیں بتایا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کو بھٹ کے قتل میں خورشید چالکو کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے پوچھا، “سرلا بھٹ کون ہے؟” اور کہا کہ یہ پہلی بار تھا جب انہوں نے یہ نام سنا تھا۔
حلف نامے میں واقعے کے دہائیوں بعد مبینہ طور پر ریکارڈ کیے گئے بیانات پر استغاثہ کے انحصار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ ملک نے نشاندہی کی کہ عبدالحمید اور جاوید میر کو 1990 کی دہائی میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے عسکریت پسندی سے متعلق دیگر مقدمات کا سامنا کیا، لیکن اس وقت ان پر بھٹ کے قتل کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
انہوں نے استغاثہ کے موجودہ بیانیے کو “بعد کی سوچ” قرار دیا اور دلیل دی کہ اس کیس کا فیصلہ قابلِ اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ اپنے ذاتی حالات اور گہرے غور و خوض کے بعد انہوں نے مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے حلف نامے میں کہا، “اپنے ذاتی حالات کے پیش نظر اور گہرے غور و فکر کے بعد، میں نے مقدمے کی سماعت میں مزید حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرے اس فیصلے کو استغاثہ کے کسی بھی واقعے، جرم یا میرے خلاف لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرنے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ میں اپنے لیے سزائے موت کی درخواست کرتا ہوں۔”
یواین آئی، م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
نمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
جموں، جموں و کشمیر پولیس اور ٹریفک پولیس نے گزشتہ دس دنوں میں ‘نمبر پلیٹ ماسکنگ’ کے خلاف مہم چلا کر 150 سے زائد گاڑیاں ضبط کر لی ہیں۔
قابلِ غور ہے کہ ‘نمبر پلیٹ ماسکنگ’ کا مطلب گاڑی کی نمبر پلیٹ کو چھپانا یا تبدیل کرنا ہے تاکہ کیمروں اور چالان سے بچا جا سکے۔ اس کے لیے لوگ پلاسٹک یا ٹیپ سے پلیٹ کو ڈھانپ دیتے ہیں، ہیلمٹ یا پاؤں سے چھپاتے ہیں، نمبروں کو کالا کر دیتے ہیں، جان بوجھ کر گندگی یا پینٹ چھڑک دیتے ہیں یا نمبر پلیٹ پر پولی تھین لگا دیتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں، خاص طور پر نمبر پلیٹ چھپانے والوں کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی گئی ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں رجسٹریشن پلیٹ نمبر چھپانے، بغیر نمبر پلیٹ کے گاڑی چلانے یا موٹر وہیکل ایکٹ کے قوانین کے مطابق نمبر پلیٹ نہ لگانے پر 158 گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا گیا اور انہیں ضبط کر لیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘نمبر پلیٹ ماسکنگ’ کے خلاف مہم کے علاوہ تیز رفتاری سے گاڑی چلانے پر 165 گاڑیاں ضبط کی گئیں، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر 59 افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ سب سے زیادہ 3,057 گاڑیوں پر رونگ پارکنگ کی وجہ سے جرمانہ لگایا گیا یا انہیں ضبط کیا گیا۔
اس کے علاوہ صوتی آلودگی پر 18 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا، چھ پر بغیر اجازت گاڑی میں ترمیم کرنے اور چار افراد پر خطرناک ڈرائیونگ کرنے پر قانونی کارروائی کی گئی۔
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا1 week agoاسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: سکیورٹی فورسز نے دو مبینہ دہشت گرد ساتھیوں کو گرفتار کیا، اسلحہ برآمد
-
ہندوستان1 week agoکانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے
