دنیا
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 2026: اہم نکات
واشنگٹن، امریکہ میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ یہ انتخابات صدر کی چار سالہ مدتِ کار کے نصف حصے میں منعقد ہوتے ہیں۔ اس بار ووٹرز ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ ان انتخابات کے نتائج سے آئندہ دو برس کے لیے کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا، اس کا فیصلہ ہوگا۔
اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پر شامل نہیں ہوگا، تاہم ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر ان کی انتظامیہ کی کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں برسرِ اقتدار صدر کی جماعت کو کانگریس میں اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے یہ انتخاب صدر کی سیاسی مقبولیت کا اہم امتحان بھی ہے۔
امریکہ میں نومبر کے پہلے منگل کو انتخابات کرانے کی روایت کا تعلق بڑی حد تک 19ویں صدی کے سماجی رواج، زرعی سرگرمیوں اور آمدورفت کی محدود سہولتوں سے ہے۔
امریکی صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ اس کی مدت کے وسط میں کانگریس کے انتخابات کرائے جاتے ہیں، جنہیں وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ ان میں صدر کا نام ووٹنگ کے لیے پیش نہیں ہوتا، لیکن نتائج کو ان کی کارکردگی پر عوامی رائے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی کانگریس قانون سازی کا ادارہ ہے اور اس کے دو ایوان ہیں:
– ایوانِ نمائندگان: اس کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ ارکان دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
– سینیٹ: اس کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ سینیٹرز کی مدتِ کار چھ سال ہوتی ہے۔
کئی ریاستوں میں ووٹرز گورنروں، ریاستی قانون ساز اداروں اور مقامی عہدیداروں کا انتخاب بھی کریں گے۔
کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن میں گورنروں کے انتخابات پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی اس کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 53 نشستیں ہیں۔
اگر حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی دونوں میں سے کسی ایک ایوان کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے یا اسے سست کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی اخراجات پر اثرانداز ہونے، صدر کی انتظامیہ کے خلاف سماعتیں اور تحقیقات کرانے اور مواخذے کی بحث دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
نتائج کچھ بھی ہوں، ٹرمپ صدر برقرار رہیں گے اور انہیں قانون سازی پر ویٹو کا اختیار بھی حاصل رہے گا، لیکن کانگریس میں دونوں جماعتوں کی تقسیم ان کے داخلی پالیسی منصوبوں کو محدود کر سکتی ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا ْ
دنیا
نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹس متحد
تل ابیب، اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششوں میں تال میل قائم کرنے پر منگل کو اتفاق کیا۔ گزشتہ ہفتے ہوئے نیسٹ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔
عرب جوائنٹ لسٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، پارٹی کے سربراہ یوسف جبرین اور پارلیمانی گروپ کے رہنما احمد طیبی نے ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان سے ملاقات کی۔ اس دوران 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور دونوں جماعتوں کے درمیان تال میل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، 120 رکنی نیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 48 نشستیں جیتی ہیں۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کو 11 اور رام پارٹی کو آٹھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
بیان کے مطابق، دونوں فریقوں نے نیتن یاہو، بن گویر اور اسموٹریچ کی حکومت کو ہٹانے اور اس کی جگہ نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے پارلیمانی اکثریت کے استعمال میں اپنی ”مشترکہ دلچسپی” پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جبرین اور طیبی نے اسرائیل کے عرب شہریوں کو درپیش اہم مسائل بھی اٹھائے اور ان کے حل کے لیے ”عملی اور ٹھوس اقدامات” آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں عرب شہریوں کا تناسب تقریباً 20 فیصد ہے۔
دونوں جماعتوں نے آئندہ سیاسی سرگرمیوں سے قبل بات چیت اور تال میل جاری رکھنے، پارلیمانی تعاون مضبوط بنانے اور ”مساوات اور امن” پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ بدھ اور جمعرات کو نیسٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد وہ فیصلہ کریں گے کہ نئی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری کس رکن پارلیمنٹ کو سونپی جائے۔
اپوزیشن کے چیلنج بلاک کی قیادت کرنے والی یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لیے سب سے زیادہ حمایت ملنے کا امکان ہے، بشرطیکہ انہیں عرب ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو جائے۔
گولان بھی چیلنج بلاک کے اہم رہنماؤں میں شامل ہیں۔ نیتن یاہو اب تک مختلف ادوار میں پانچ مرتبہ اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور وہ ملک میں سب سے طویل عرصے تک اس عہدے پر فائز رہنے والے وزیر اعظم ہیں۔
انہوں نے 2022 کے اواخر سے موجودہ حکومت کی قیادت سنبھال رکھی ہے۔ اس اتحاد کو بڑے پیمانے پر اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت قرار دیا جاتا رہا ہے۔
نیتن یاہو اس وقت بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف رشوت خوری، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت سمیت متعدد الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت 2024 میں ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ اکتوبر 2023 سے غزہ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا ۔
دنیا
ایران سعودی عرب کے ساتھ بات چیت جاری، غیر ملکی افواج کے بغیر علاقائی سلامتی کا نظام قائم کرنے کا خواہاں: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ تہران سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی قیادت میں غیر ملکی فوجی مداخلت سے پاک ایک نئے علاقائی سلامتی نظام کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”ہم قطر اور عمان کے مثبت کردار کو سراہتے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ اپنا مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ایران کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے نیا علاقائی سلامتی نظام قائم کرنا ہے، جس میں غیر ملکی فوجی افواج کی موجودگی نہ ہو۔انہوں نے کہا، ”ہمارا مقصد خطے کے ممالک کی جانب سے خود طے کیے جانے والے نئے سلامتی انتظامات قائم کرنا ہے، جو کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی سے آزاد ہوں۔”
عراقچی نے پیر کو دوحہ میں قائم الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وفود کے دورہ تہران کے دوران مجوزہ علاقائی سلامتی نظام پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
ان کے مطابق، ان مذاکرات میں مشترکہ سیاسی، سلامتی اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چاروں ممالک نے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران کا خلیجی دوست ممالک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو خطے میں امریکی فوجی اڈے اور دیگر امریکی اہداف بھی ایران کے جوابی حملوں کی زد میں آئیں گے۔انہوں نے خلیجی ممالک سے اپیل کی کہ وہ کسی نئے تصادم کو روکنے میں مدد کریں۔ ساتھ ہی قطر کی ثالثی کی کوششوں اور عمان و سعودی عرب کے تعمیری موقف کی تعریف کی۔
عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک تجویز کی تفصیلات بھی پیش کیں، جو اطلاعات کے مطابق قطر کی ثالثی کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔
اس تجویز کے تحت امریکہ پہلے ایران کے مطالبات کے مطابق متعدد اقدامات کرے گا، جس کے بعد ایران اگلے ہی روز اس اہم بحری گزرگاہ کو کھول دے گا۔
عراقچی کے مطابق ایران کے مطالبات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد کی گئی پابندیوں کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات کی اجازت دینا، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو سابقہ سطح پر لانا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ان شرائط پر عمل درآمد سے آبنائے ہرمز کھولے جانے کے اسی روز واشنگٹن کے ساتھ نئے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔”
عراقچی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایران نے قطر کی ثالثی کے ذریعے نیویارک میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کا ایک دور کیا تھا۔تاہم، انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ تہران اور واشنگٹن نے قطر، ترکی یا کسی دوسرے مقام پر براہ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات کو ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی مستقبل کے معاہدے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، جوہری معاملے سے متعلق تجاویز اب بھی زیر غور ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایران کی نظرثانی شدہ سات مرحلوں پر مشتمل سفارتی تجویز پر مکمل طور پر دو دن کے اندر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔
بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کی بحالی کی پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور تہران کے مطالبات، بالخصوص پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی
رہائی، کو پورا کرنے پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا ۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی آخری انتخابی مہم، مہنگائی کے بجائے واشنگٹن کے تزئین و آرائش کے منصوبوں پر توجہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنی آخری بڑی انتخابی مہم کے لیے ایک غیر معمولی مقام کا انتخاب کرتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل کے 1.4 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ازسرنو تعمیر کیے گئے ریفلیکٹنگ پول کو اپنی تقریر کا مرکز بنایا۔ توقع ہے کہ ووٹروں کے پولنگ مراکز کا رخ کرنے سے پہلے یہ ان کی آخری بڑی عوامی تقریب تھی۔
انتخابات سے ایک روز قبل ٹرمپ نے حال ہی میں دوبارہ کھولے گئے تالاب کے سامنے تقریباً 25 منٹ کی تقریر کی، جس میں انہوں نے اس کی تزئین و آرائش، پائپ لائن نظام، اطراف کی گھاس اور گرینائٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ یہ تقریب ایسے وقت ہوئی ہے جب مختلف سروے ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں ووٹرز کا خیال ہے کہ صدر ملک کے اہم مسائل کے بجائے دارالحکومت میں تعمیراتی اور خوبصورتی کے منصوبوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
اس موقع کے انتخاب نے ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ لاکھوں امریکی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے پریشان ہیں۔ ریفلیکٹنگ پول اس سے قبل کائی جمنے اور پانی کا رنگ بدلنے کی اطلاعات کے باعث عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن چکا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں واشنگٹن کے متعدد منصوبوں کا ذکر کیا، جن میں زمین کی تزئین، یادگاروں کی تزئین و آرائش، وائٹ ہاؤس میں نئے ہیلی پیڈ کی تعمیر اور گولف کورس کی تجدید کے منصوبے شامل تھے۔ تاہم انہوں نے امریکی خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔
یہ تقریر ایسے وقت ہوئی جب اطلاعات کے مطابق ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ طور پر مشکل نتائج کے لیے نجی طور پر تیاری کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نجی گفتگو میں اس امکان کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اتحادیوں اور مشیروں کے ساتھ اس کے ممکنہ نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں کانگریس کی تحقیقات، حکومتی ایجنڈے میں رکاوٹیں اور مواخذے کی کارروائی کے امکانات شامل ہیں۔
ٹرمپ کے نجی خدشات ان کے عوامی انتخابی پیغام سے مختلف ہیں، جس میں ووٹروں کے اہم مسائل کے بجائے تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے منصوبوں کو نمایاں کیا گیا۔
سی این این کے تازہ سروے کے مطابق 74 فیصد ووٹروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی ترجیحات درست نہیں ہیں۔
دوسری جانب انتخابی نتائج کی پیش گوئی کرنے والے دو اہم اداروں، لیری ساباٹو اور کُک پولیٹیکل رپورٹ نے ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کی سابق رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے بھی انتخابات سے ایک رات قبل ریفلیکٹنگ پول پر خطاب کرتے ہوئے واشنگٹن میں تزئین و آرائش کے منصوبوں پر ٹرمپ کی توجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے صدر کے انتخابی پیغام کو ”انتہائی مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریپبلکن پارٹی وسط مدتی انتخابات میں ہار جاتی ہے تو یہ ٹرمپ کے خلاف ایک مکمل عوامی ریفرنڈم ہوگا۔
ابتدائی ووٹنگ کے اعداد و شمار بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ امریکی پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، جبکہ 25 ریاستوں میں ووٹروں کی شناخت کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 13 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ دو سال قبل یہ برتری محض چار پوائنٹس تھی۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ وسط مدتی انتخابات میں عموماً اپوزیشن جماعت کو نشستیں حاصل ہوتی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واشنگٹن کا سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو سکتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کی سخت نگرانی، تحقیقات اور مواخذے سے متعلق نئے مطالبات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین نے صدر کی غیر متوقع عوامی سرگرمیوں اور ایسے مشیروں کی بظاہر عدم موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جو ان کے فیصلوں پر اختلاف یا انہیں چیلنج کرنے کی جرأت رکھتے ہوں۔
اب توجہ نہ صرف کانگریس کی نشستوں کے نتائج پر مرکوز ہے بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ اگر ووٹرز ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی جھٹکا دیتے ہیں تو ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
تجزیہ1 week agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان6 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر آگ لگنے سے تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر
-
دنیا1 week agoاسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
