ہندوستان
راہل نے مودی کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیا
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے چیلنج کو 24 گھنٹے گزر چکے ہیں، لیکن وزیر اعظم کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں، اس لیے انہیں کسی بھی پلیٹ فارم پر آمنے سامنے بیٹھ کر بحث کرنی چاہیے۔ اس مباحثے میں غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مبینہ تعلقات، مالیاتی نظام، امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے، کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر سمجھوتہ کرنے اور صنعت کار اڈانی کے معاملے سمیت کئی موضوعات پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مباحثے کے لیے وزیر اعظم اپنی پسند کے کسی بھی جج کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی جج بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مباحثے میں میڈیا اور ملک کے نوجوان بھی موجود رہیں، تاکہ تمام الزامات کی حقیقت سامنے آ سکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے خلاف تقریباً 45 ہتک عزت کے مقدمات درج ہیں، لیکن غیر ملکی تعلقات سے متعلق الزامات پر وزیر اعظم ہتک عزت کا مقدمہ کیوں درج نہیں کراتے؟ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا، ”آئیے، ڈریے مت۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔”
آخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو دیوالی کی مبارکباد بھی دی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دفاعی پیداوار میں خود انحصاری ضروری، 2029 تک تین لاکھ کروڑ روپے کا ہدف: راجناتھ سنگھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں فوجی تیاریوں کے لیے ضروری دفاعی ٹیکنالوجی اور سازوسامان کی ملک میں ہی تیاری ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو تین لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کو 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ‘دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ-2026’ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خودانحصاری کا مطلب دنیا سے دوری اختیار کرنا نہیں، بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے ہندوستان کو مزید اہل اور مضبوط بنانا ہے۔ دفاعی شعبے میں اب صرف ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے اس کی ترقی، پیداوار اور نئے تجربات میں ہندوستان کی شراکت داری بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی اصلاحات، خود کفالت، بین الاقوامی تعاون اور برآمدات ‘وکست بھارت-2047’ کے چار باہم مربوط ستون ہیں۔ ان سب پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے۔ خود کفالت کے لیے ملک میں ٹیکنالوجی تیار کرنے، پیداوار کرنے اور سازوسامان کو اس کی پوری مدتِ استعمال کے دوران برقرار رکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ دنیا میں جنگ کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب لڑائی زمین، سمندر اور فضا کے ساتھ خلائی اور سائبر شعبوں تک پہنچ گئی ہے۔ سستے ڈرون اور خودکار نظام مہنگے فوجی سازوسامان کے سامنے نئے چیلنج پیش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تیزی سے نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے، بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے اور ضرورت کے مطابق ہتھیاروں کی فراہمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار ریکارڈ تقریباً 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے رہیں۔ ہندوستانی دفاعی مصنوعات اب 80 سے زیادہ ملکوں تک پہنچ رہی ہیں۔
انہوں نے دفاعی تحقیق میں مسلح افواج کے تجربات کو اہمیت دینے کے ساتھ سائنس دانوں کو نئے تجربات اور آزادانہ تحقیق کی آزادی دینے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق تحقیق کے دوران فوج کی ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے، لیکن اسے صرف موجودہ مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ کامیاب تجربات کو تجربہ گاہوں سے نکال کر پیداوار اور فوج کے استعمال تک پہنچانا ضروری ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مستقبل میں دوسرے ملکوں کے ساتھ دفاعی تعاون مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ اختراع پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سے ہندوستانی کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی، دانشورانہ ملکیت اور عالمی سپلائی چین میں شراکت داری کے مواقع حاصل ہوں گے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے میں تاخیر پر کانگریس کا سوال، حد بندی بلوں کے لیے خصوصی اجلاس بلانے ک…
نئی دہلی، کانگریس نے منگل کو پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے باضابطہ اعلان میں مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر خصوصی اجلاس بلانے کا امکان کھلا رکھے ہوئے ہے، تاکہ مجوزہ حد بندی بلوں کو لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جا سکے، حالانکہ ان بلوں کے مندرجات کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد 82 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اسے باضابطہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ اس تاخیر کا تعلق وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے مجوزہ حد بندی قانون سازی کی منظوری یقینی بنانے کے لیے خصوصی اجلاس بلانے پر غور کرنے کی اطلاعات سے ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ مجوزہ بل سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ممکنہ انتخابی شکست سے بچانا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، ”ان بلوں کے مندرجات کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے، حالانکہ ان کا مقصد واضح ہے کہ 2029 میں بی جے پی کو سامنے نظر آنے والی شکست سے بچایا جائے۔”
امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے، جنہیں انہوں نے ‘خود ساختہ چانکیہ’ قرار دیا، کانگریس رہنما نے انتخابی بے ضابطگیوں پر پارلیمنٹ میں بحث کے معاملے پر حکومت کے موقف میں دوہرے معیار کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امت شاہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر بحث کے اپوزیشن کے مطالبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ عمل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”گزشتہ سال جب پوری اپوزیشن ایس آئی آر پر بحث چاہتی تھی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔”
پارلیمنٹ میں ووٹ چوری کے الزامات پر بحث کے لیے حکومت کی آمادگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ اس طرح کی کوئی بھی پہل اس وقت تک بے معنی ہوگی، جب تک مرکز الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی جاری نظرثانی کے عمل سے متعلق اپوزیشن کے خدشات دور نہیں کرتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا، ”اگر وزیر داخلہ ووٹ چوری کے معاملے پر خصوصی اجلاس بلانے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے آلۂ کار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ یقینی بنانا چاہیے۔ انہیں ایس آئی آر بھی معطل کر دینی چاہیے۔”
مسٹر رمیش نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پیش کرنے سے پہلے حد بندی کے نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکز نے اپوزیشن کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور ان تجاویز، ان کے آئینی مضمرات اور مختلف ریاستوں کی سیاسی نمائندگی پر ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ کیوں نہیں بلائی۔
انہوں نے پوچھا، ”اور ظاہر ہے، انہیں حد بندی سے متعلق اپنی نئی تجاویز بھی اپوزیشن کے ساتھ کافی پہلے شیئر کرنی چاہئیں۔ ان تجاویز پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی ان میں ہمت کیوں نہیں ہے؟”
حد بندی کے عمل میں پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی سرحدوں کی ازسرنو تعیین اور نشستوں کی تقسیم کا تعین کیا جاتا ہے۔ ملک گیر سطح پر مجوزہ آئندہ حد بندی کے پیش نظر یہ معاملہ سیاسی طور پر انتہائی حساس بن گیا ہے۔
2026 کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری سے حلقوں کی آئندہ ازسرنو ترتیب کو جوڑنے والی آئینی دفعات کے تناظر میں اس بحث کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اپوزیشن، بالخصوص جنوبی ہندوستان کی سیاسی جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حد بندی کا عمل بنیادی طور پر آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی ہوا تو اس سے مختلف ریاستوں کے درمیان سیاسی نمائندگی کا توازن بدل سکتا ہے۔
جنوبی ریاستوں کا کہنا ہے کہ آبادی پر قابو پانے کی پالیسیوں کو کامیابی سے نافذ کرنے کی وجہ سے انہیں پارلیمانی نمائندگی کے معاملے میں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی آئینی تحفظات، اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار اور مجوزہ حلقہ بندی کی تنظیم نو کے وقت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
کانگریس کا اصرار ہے کہ حد بندی کو محض انتظامی یا تکنیکی عمل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے وفاقی نظام اور سیاسی طاقت کی تقسیم پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکز اپنی تجاویز منظر عام پر لائے اور اس عمل کو آگے بڑھانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کرے۔
مسٹر رمیش کے تازہ بیان نے یوں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تین اہم اور متنازع مسائل کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے: انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری، الیکشن کمیشن کی جواب دہی اور انتخابی حلقوں کی مجوزہ حد بندی۔
کانگریس اس بحث میں شفافیت اور مشاورت کو مرکزی اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ خصوصی اجلاس بلانے کے لیے حکومت کی بظاہر آمادگی پارلیمانی بحث کے تئیں حقیقی عزم کا نتیجہ ہے یا 2029 کے عام انتخابات سے پہلے سیاسی مفادات کے پیش نظر کیا جا رہا اقدام ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ایپل کا سہ ماہی ریونیو 114 ارب ڈالر پر، ہندستان میں بھی ریکارڈ فروخت
نئی دہلی، امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے گزشتہ 26 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 114 ارب ڈالر سے زائد کا ریونیو حاصل کیا اور اس دوران ہندستان سمیت کئی بازاروں میں اس کی ریکارڈ فروخت درج کی گئی۔
امریکہ کے کیلیفورنیا کے شہر کیوپرٹینو میں کمپنی نے پیر کے روز 26 ستمبر کو ختم ہونے والی چوتھی سہ ماہی اور پورے سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا۔ کمپنی نے بتایا کہ سہ ماہی میں کل ریونیو، آئی فون سے حاصل ہونے والی آمدنی اور فی حصص آمدنی کے نئے ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سروسز سے حاصل ہونے والا ریونیو بھی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہا۔ کمپنی کا سہ ماہی ریونیو 114.5 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ فی حصص آمدنی 2.10 ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد کا اضافہ ہوا۔
کمپنی نے فی حصص 0.27 ڈالر کے ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا ہے۔ مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر ڈیویڈنڈ کی شکل میں تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کی ادائیگی 16 نومبر کو کی جائے گی، جس کے لیے 12 نومبر 2026 کی شیئر ہولڈنگ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نتائج کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنس نے بتایا کہ کمپنی نے امریکہ، یورپ، چین اور باقی ایشیا پیسیفک کے خطوں میں ستمبر سہ ماہی کے ریکارڈز قائم کیے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ابھرتے ہوئے دونوں طرح کے بازاروں میں ستمبر سہ ماہی کا ریونیو نئی ریکارڈ سطح پر رہا۔ اس کے ساتھ ہی ہندستان میں بھی اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چوتھی سہ ماہی میں آئی فون سے 57.6 ارب ڈالر کی کمائی ہوئی ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے اور یہ کمپنی کی کل آمدنی کا 50 فیصد ہے۔ امریکہ اور چین میں دو ہندسوں کی عمدہ نمو رہی، جس کی وجہ سے ریونیو ریکارڈ سطح پر پہنچا۔
امریکہ، چین اور ہندستان میں پرانے فونز سے نئے فونز پر منتقل ہونے والے صارفین کے معاملے میں بھی کمپنی نے ستمبر سہ ماہی کا ریکارڈ بنایا۔ اپگریڈرز کے اعتبار سے بھی یہ کمپنی کے لیے اب تک کا بہترین مالیاتی سال رہا۔
مسٹر ٹرنس نے کہا کہ کمپنی اس سال کا اختتام اپنے اب تک کے انتہائی شاندار لائن اپ کے ساتھ کر رہی ہے۔ اس میں ‘آئی فون ڈیو’ بھی شامل ہے، جو اصل آئی فون کے بعد سب سے بڑی تبدیلی لانے والا آئی فون ہے۔
اس کے ساتھ ہی آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی اس لائن اپ کا حصہ ہیں۔ پہلی بار میک (ڈیسک ٹاپ) میں ‘ٹچ’ کی سہولت شامل کی گئی ہے۔
ایپل کے چیف فنانشل آفیسر کیون پاریکھ نے کہا کہ پورے سال کے دوران کمپنی کا کل ریونیو 479 ارب ڈالر رہا، جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔ فی حصص آمدنی میں بھی دوہرے ہندسوں کی نمو درج کی گئی۔
میک کی فروخت سے کمپنی کی کمائی 10.8 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں مک بک نیو اور مک بک پرو کا سب سے زیادہ حصہ رہا۔
سروسز سے حاصل ہونے والا ریونیو 31.6 ارب ڈالر کی ہمہ وقت بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس میں سال بہ سال 10 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مسٹر پاریکھ نے بتایا کہ لاطینی امریکہ اور ہندستان جیسے کئی ابھرتے ہوئے بازاروں میں سروسز سے حاصل ہونے والے ریونیو کا نیا ریکارڈ بنا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
تجزیہ1 week agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان6 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر7 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر آگ لگنے سے تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر
-
دنیا1 week agoاسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
